نئی دہلی،4؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک مسلم خاتون کی اس درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا جس نے اسے طلاق کے لیے شوہر کی جانب سے دیئے گئے دو نوٹس کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں رٹ پٹیشن پر غور نہیں کر سکتا ہے۔ جسٹس آر بھانو متی اور جسٹس اے ایس بوپنا نے اس تبصرے کے ساتھ ہی مسلم خاتون کی درخواست کا نمٹارا کر دیا۔ بنچ نے کہا کہ اس عدالت میں طلاق کے نوٹس کو چیلنج نہیں دیاجاسکتا ۔عدالت نے اس امداد کے لیے مناسب اسٹیج پر جانے کی چھوٹ بھی فراہم کر دی۔ اس عورت کی جانب سے ایڈووکیٹ ایم ایم کشیپ نے کہا کہ پرسنل لاء کے تحت طلاق احسن عمل پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ وہ عرضی کے حسن و قبح کی تفصیل میں نہیں جا سکتی ہے اور درخواست گزار کو مناسب فورم پر جانا چاہئے۔ دہلی رہائشی اس خاتون کا دعوی ہے کہ وہ اس شخص کے ساتھ اس کا 22 فروری، 2009 کو اسلامی قانون کے مطابق شادی ہوئی تھی اور اس وقت اس کے نو اور چھ سال کے دو بچے ہیں۔ خاتون نے اس طرح کی نوٹس دینے کے لیے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی درخواست کی تھی۔ شوہر نے پہلا نوٹس 25 مارچ کو اور دوسرا نوٹس سات مئی کو دیا ہے۔